Political Life of Prophet Muhammad ﷺ

رسول اللہ ﷺ کی سیاسی زندگی

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ (الصف:9)

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو ناگوار ہو۔

کے مصداق رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد دینِ اسلام کو غالب کرنا تھا۔ کوئی بھی نظریہ اُس وقت تک غالب نہیں آ سکتا جب تک وہ کسی ریاست میں بطورِ نظام نافذ نہ ہو۔ اسلام میں واضح طور پر ایسے بہت سے احکامات موجود ہیں جو صرف اجتماعی سطح پر ہی نافذ ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا محض افراد کی اصلاح سے معاشرے کی مکمل اصلاح ممکن نہیں، اور نہ ہی اسلام کا غلبہ ممکن ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اسے بطورِ نظام بھی نافذ کیا جائے۔

نبی ﷺ کی سیرت کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مکی زندگی سے لے کر مدینہ میں بطورِ حکمران، آپ نے لوگوں کے امور کو منظم کرنے کی جدوجہد کی، اور اسی کو سیاست کہا جاتا ہے۔ عموماً ہم آپ ﷺ کی سیرت کو اخلاق کے زاویے سے تو دیکھتے ہیں، لیکن بغور مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ایک مثالی سیاستدان بھی تھے، اور

لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ  (الاحزاب: 21)

بیشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے۔

مکہ میں جہاں آپ ﷺ صحابۂ اکرام کی تربیت کر رہے تھے، وہیں آپ ﷺ مکہ میں موجود غیر اسلامی افکار کو بھی لوگوں کے سامنے بے نقاب کر رہے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے کفار کے نظام کے ہر جزو کو نشانہ بنایا۔ آپ ﷺ نے کفار کے معاشی نظام پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ(المطففین: 1)

 کم تولنے والوں کے لیے تباہی ہے۔

اسی طرح کفار کے معاشرتی نظام کو بھی نشانہ بنایا اور فرمایا:

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْ.بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ (التکویر: 9-8)

 اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟

سیاست کو سمجھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ محض نظام میں موجود افکار کو نشانہ بنانے سے تبدیلی ممکن نہیں ہوتی، جب تک حکمرانوں کو بھی لوگوں کے سامنے بے نقاب نہ کیا جائے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے ان تمام سرداروں کو، جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ تھے، فرداً فرداً تنقید کا نشانہ بنایا۔ ابو جہل کے بارے میں فرمایا:

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ۔ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (العلق: 16-15)

ہرگز ایسا نہیں چاہیے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ پیشانی جھوٹی خطا کار۔

 اسی طرح ولید بن مغیرہ کو نشانہ بناتے ہوئے فرمایا:

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍ (القلم: 13)

سخت مزاج، اس کے بعد ناجائز پیداوار ہے۔

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:  

انَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَؕ  (الانبیاء: 98)

تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔

 اس تمام جدوجہد سے واضح ہوتا ہے کہ اقتدار کے حصول تک آپ ﷺ نے معاشرے میں موجود افکار اور حکمران طبقے دونوں کو بے نقاب کیا۔ آپ ﷺ کی اس بے مثال جدوجہد سے کفار اس قدر خوفزدہ تھے کہ جب آپ ﷺ حج کے موقع پر آنے والے مختلف قبائل کے سرداروں سے نصرت اور اقتدار کے قیام کے لیے ملاقات کرتے، تو کفار آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے جاتے۔ جب آپ ﷺ خیمے سے واپس آتے تو وہ ان سرداروں سے مل کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ وہ آپ ﷺ کی دعوت قبول نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ نے جب آپ ﷺ کو مدینہ میں اقتدار عطا کیا تو آپ ﷺ ایک مثالی حکمران ثابت ہوئے۔ آپ ﷺ نے رہنما اصولوں کے نفاذ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ بنی مخزوم قبیلے کی ایک عورت نے چوری کی اور پکڑی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ چونکہ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی، اس لیے اس کے خاندان والوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ (جو رسول اللہ ﷺ کو نہایت محبوب تھے) کو سفارش کے لیے بھیجا۔ جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے اسامہ! کیا تم اللہ کی قائم کردہ حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟” اس پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیے۔” پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیا: “اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور یہ کام کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتیں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”

جس طرح آپ ﷺ حدودِ الٰہی کے نفاذ میں کسی قرابت یا تعلق کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اسی طرح آپ ﷺ نے اسلام کو بطورِ داخلہ پالیسی بھی بہترین انداز میں نافذ کیا۔ آپ ﷺ کے طریقِ نفاذ میں حکمت اور مصلحت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ ﷺ سے پہلے عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، لیکن آپ ﷺ کی آمد کے بعد اقتدار آپ ﷺ کو حاصل ہو گیا۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی نفاق اختیار کر گیا اور اندرونی بغض میں مبتلا رہا۔ متعدد صحابۂ کرام نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی، لیکن آپ ﷺ نے محض دشمنی کی بنیاد پر کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ ایسے اقدامات داخلی پالیسی میں بگاڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ نے انہیں روک دیا اور فرمایا: “لوگ کہیں گے کہ یہ اپنے اصحاب کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔”

بعد ازاں، جب عبداللہ بن ابی نے غزوۂ احد کے موقع پر کہا کہ “ہم عزت والے مدینہ واپس جا کر ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے”، تو اس کے اپنے بیٹے نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر تلوار رکھ دی۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بہترین تربیت، کامیاب داخلی پالیسی اور اعلیٰ سیاسی حکمت کی واضح مثال ہے۔

 آپ جہاں کوئی حکم نافذ کرتے، اسے بہترین انداز اور حکمت کے ساتھ نافذ فرماتے اور اس سلسلے میں ماہرین سے مشورہ بھی کرتے۔ اس کی ایک واضح مثال غزوۂ بدر کے موقع پر قیام ہے: جب آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ پانی کے کنوؤں کے قریب قیام کیا جائے۔ آپ ﷺ نے اس رائے کو بہتر جانا اور اس پر عمل فرمایا۔ اسی طرح غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ماہرانہ رائے پر عمل کرتے ہوئے خندق کھودی گئی، جو فتح کا سبب بنی۔

صلحِ حدیبیہ آپ ﷺ کی سیاسی بصیرت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ ﷺ کو خبر مل چکی تھی کہ مشرکینِ مکہ اور خیبر کے یہودی باہمی مشورے کر رہے ہیں اور مشترکہ حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صحابۂ کرام کو عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا۔ مشرکین کئی سالوں سے حج و عمرہ کے انتظامات کے ذمہ دار تھے اور یہ ان کے لیے عزت کا باعث بھی تھا۔ اب اگر وہ رسول اللہ ﷺ کو روکتے تو پورے عرب میں ان کی بدنامی ہوتی، اور اگر اجازت دیتے اور آپ ﷺ صحابہ کے ہمراہ عمرہ ادا کرتے، تو یہ بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا کہ جن لوگوں کو انہوں نے کچھ عرصہ قبل مکہ سے نکالا تھا، وہی آج پورے وقار کے ساتھ واپس آ رہے ہیں۔

اس صورتحال میں قریش بوکھلا گئے اور بالآخر مذاکرات پر آمادہ ہو گئے۔ مذاکرات کے نتیجے میں صلح حدیبیہ طے پائی، جو بظاہر مسلمانوں کے لیے ناموافق محسوس ہوتی تھی، حتیٰ کہ بعض صحابۂ کرام بھی اس پر مضطرب تھے۔ تاہم بعد میں اس کے ثمرات نمایاں ہوئے: آپ ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کر کے ایک پُرامن فضا قائم کی، دوسری جانب اگلے ہی سال خیبر کے یہودیوں کو شکست دی، اور چند سال بعد جب قریش نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو آپ ﷺ نے مکہ فتح کر لیا۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیاست کے میدان میں ایک عظیم مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اتباعِ سنت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی سیاست اور اجتماعی معاملات میں بھی آپ ﷺ ہی سے رہنمائی حاصل کریں۔ یہ ہمارے لیے محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک شرعی ذمہ داری ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ(بخاری: کتاب احادیث انبیاء)

بنی اسرائیل کے انبیاء  علیہم السلام سیاست کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی وفات پاتا تواس کی جگہ دوسرا نبی لے لیتا تھا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اورعنقریب خلفاء ہوں گے، اور بہ کثرت ہوں گے۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سیاست محض دنیاوی تدبیر کا نام نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ اور ان کا مشن رہی ہے۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب اس عظیم سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری امتِ محمدیہ پر عائد ہوتی ہے۔

لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ سیرتِ رسول ﷺ کا محض اخلاقی اور روحانی زاویے سے ہی نہیں بلکہ سیاسی و اجتماعی پہلو سے بھی گہرا مطالعہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سیاسی بصیرت، حکمتِ عملی، اصولی استقامت اور امت کے معاملات کی نگرانی کے اسوہ کو سمجھیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسی کے مطابق سیاسی امور کو آگے بڑھائیں۔ یہی اتباعِ سنت کا حقیقی تقاضا اور امت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

About the Author

Abdus Salam

Abdus Salam is a thoughtful scholar and visionary leader with a profound command of politics, philosophy, economics, and Islamic literature. His deep analytical insight and extensive study enable him to address contemporary challenges through a well-grounded ideological perspective. With a strong grasp of global political dynamics, economic systems, and classical as well as modern intellectual thought, he brings clarity and depth to every discourse. His writings and leadership reflect a unique blend of intellectual rigor, strategic understanding, and commitment to Islamic values, making him a compelling voice on matters of societal and ideological importance.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like these

Event Registration


    This will close in 20 seconds